ترس ناک

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خوفناک، ڈرا ہو، ترساں۔ "میں خواب سے اٹھ کر خوفناک و ترسناک باہر گیا۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ٦:٢ ) ٢ - ڈرنے والا، خوف دلانے والا۔ "گرمئی آفتاب کے سوا اور بھی نہایت ترسناک و ہول ناک امور پیش آئیں گے۔"      ( ١٩١٣ء، علامات قیامت، ١٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم مشتق 'تَرْس' کے ساتھ فارسی ہی سے لاحقۂ صفت 'ناک' لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیاء" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوفناک، ڈرا ہو، ترساں۔ "میں خواب سے اٹھ کر خوفناک و ترسناک باہر گیا۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ٦:٢ ) ٢ - ڈرنے والا، خوف دلانے والا۔ "گرمئی آفتاب کے سوا اور بھی نہایت ترسناک و ہول ناک امور پیش آئیں گے۔"      ( ١٩١٣ء، علامات قیامت، ١٩ )